ابنا: مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو قاہرہ کی جیل سے رہائی کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ مصری حکام کے مطابق پراسیکیوٹر نے سابق صدر حسنی مبارک کی رہائی کا حکم جیل حکام کو پیش کیا، جسکے بعد ایک ایمبولینس ہیلی کاپٹر کے ذریعے سابق صدر کو ایک قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پچاسی سالہ حسنی مبارک کو دو ہزار گیارہ میں عوامی احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔ انہیں احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین کے قتل کی سازش اور بدعنوانی کے مقدمات میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔دیگر ذرائع کے مطابق مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو 2 برس بعد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حسنی مبارک کو قاہرہ کی طرہ جیل سے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا۔ حسنی مبارک کو فوجی اسپتال میں نظربند رکھا جائے گا۔ مصر کے سابق آمر پر کرپشن اور ملک گیر مظاہروں میں احتجاج کرنے والوں کو قتل کرنے کا حکم دینے کے الزامات تھے۔ ادھر تجزیہ نگاروں کے مطابق مصر میں سیاسی اور سماجی کشیدگی جاری ہے اور اسی دوران ایک خبر نے مصر کے تمام عوام کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ یہ خبر مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی آزادی کے حکم سے عبارت ہے۔ مصر کے عوام یہ توقع کر رہے تھے کہ حسنی مبارک کو پھانسی جیسی سخت سزا سنائی جائے گی، لیکن اس ملک کی عدالت نے اس کی آزادی کا فیصلہ دے دیا ہے۔ کل مصر کی عدالت نے اس ملک کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی آزادی پر مبنی حسنی مبارک کے وکیل کی درخواست سے اتفاق کرتے ہوئے اس ڈکٹیٹر کی آزادی کا حکم دے دیا ہے۔ حسنی مبارک کے بدعنوانی سے متعلق کیس کے جج نے عدالت کے اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس پر نظرثانی نہیں کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ حسنی مبارک نے مصر میں سنہ دو ہزار گیارہ میں عوامی انقلاب شروع ہونے کے بعد صدارت کے عہدے سے علیحدگی اختیار کرلی اور اقتدار اس وقت کے وزیر دفاع طنطاوی کی زیر قیادت فوجی کونسل کو سونپ دیا تھا۔ مصر میں انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد حسنی مبارک کو گرفتار کر لیا گيا، اور وہ اڑھائی برس تک طرہ جیل میں قید رہا۔ اس مدت کے دوران مبارک پر قتل عام، بدعنوانی اور انقلابی تحریک کے دوران مظاہرین پر تشدد کے الزامات کی بناء پر مقدمات چلائے گۓ۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ مبارک کو ان مقدمات سے بری کیا جاتا رہا۔ اب مصر میں فوجیوں کی حکمرانی ہے اور ان کی حکمرانی میں مصر کے پچاسی سالہ ڈکٹیٹر کی آزادی کا حکم سنا دیا گيا ہے۔ جس پر مصر کے سارے عوام انگشت بدندان ہیں۔ بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حسنی مبارک کی آزادی کا فیصلہ فوجیوں اور سابق حکومت سے وابستہ سیاستدانوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ لبرل جماعتوں نے محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کی حمایت کی تھی۔ مصر میں حسنی مبارک کی آزادی کے فیصلے کو اس ملک میں فوجی بغاوت اور اقتدار فوجیوں کے ہاتھ میں آنے کے آفٹر شاکس سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ البتہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ کیا انقلابی اور اسلام پسند جماعتیں اور مصر کے عوام حسنی مبارک کی آزادی کے فیصلے کو تسلیم کرلیں گے؟ اس میں شک نہیں کہ مصر میں ایک سماجی دھماکے اور معاشرتی ڈرون حملے کا امکان پایا جاتا ہے اور یہ حملہ عوامی حکومت کے خلاف کودتا کرنے والوں کے خلاف ہوگا۔ مصر میں حکومت مخالف جماعتوں پر مشتمل سول نافرمانی کی تحریک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ مصر کے عوام کے قاتل حسنی مبارک کی آزادی پر خاموش نہیں رہے گی۔ اس تحریک نے کہا ہے کہ وہ حسنی مبارک پر عوامی مقدمے کی تیاری کر رہی ہے۔ چھ اپریل نامی مصر کی ایک انقلابی تحریک نے بھی کہا ہے کہ وہ حسنی مبارک کو ظالم اور مجرم جانتی ہے اور اسے سزا دیا جانا ضروری ہے۔ اخوان المسلمین نے بھی کہا ہے کہ حسنی مبارک کی آزادی سے فوجی بغاوت کرنے والوں کا حقیقی چہرہ نمایاں ہوگيا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مصر میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے ماحول میں سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی آزادی ایک اشتعال آمیز اقدام ہے اور اس سے مصر میں سیاسی اور اقتصادی بحران میں شدت پیدا ہوگی اور مصر کے بہت سے عوام کا خیال یہ ہے کہ فوج نے درحقیقت حسنی مبارک کی آزادی کی صورت میں ان قوتوں کی خدمت کی ہے، جنھوں نے محمد مرسی کے خلاف کودتا کے سلسلے میں فوج کا ساتھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
22 اگست 2013 - 19:30
News ID: 454620
مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو قاہرہ کی جیل سے رہائی کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔